Breaking News

شہادت عثمان اور اس کی اہمیت

حضرت عثمان کی شہادت قرآن میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے. اور ان کی شہادت پر نبی نے بیعت بھی لی جس کو بعد میں الله نے پسند فرمایا اور شرف قبولیت بخشا. اسلام کے پہلے چار خلفاء میں سے تین شہید کیے گئے. ان تینوں میں سے حضرت عثمان شہادت درمیان میں آتی ہے. غور طلب بات ہے کہ باقی دو خلفاء کی شہادت کی کوئی پیشگی بیعت نہیں لی گئی. لیکن شہادت عثمان کے بارے میں قرآن میں سوره فتح کی آیت ١٠ میں فرمایا گیا

جن لوگوں نے تم سے بیعت کی ہے درحقیقت انھوں نے الله سے بیعت کی ہے۔ الله کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔ اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا (۱۰)


گویا قتل عثمان کے قصاص پر بیعت تو الله نے شہادت عثمان سے ٢٩ سال پہلے ہی مسلمانوں سے لے لی تھی. اور یہ بیعت امت کے ساتھ ساتھ نبی کریم سے بھی لی گئی


آگے آیت نمبر ١٨ میں بیعت کرنے والوں سے الله تعالیٰ نے راضی ہونے کا اعلان کر دیا


اے پیغمبر جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے راضی ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی (۱۸)


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو رضی الله عنہ کا لقب ہی اس بیعت کے کرنے کی وجہ سے ملا وہ اصحاب قتل عثمان میں کیسے ملوث ہو سکتے ہیں. اگر بیعت رضوان میں شامل کسی صحابی کا شہادت عثمان میں ملوث ہونے کی اطلاع کوئی فرشتہ بھی آ کر دیتا تو بھی اس قرآن پر ایمان اور تیقن رکھنے والی امت کو آنکھیں بند کر کے اس روایت کو قرآن کی روشنی میں مسترد ہی کر دینا چاہیے نہ کہ واقدی جیسے وضاع اور کذاب راوی کے
بیان کو قرآن کے مقابلے میں زیادہ مستند مان کر پیش کرنا چاہیے


گویا واقدی پر اندھا اعتبار کرنے والے یہ مانتے ہیں کہ الله کو نعوز باللہ مستقبل کی خبر نہیں تھی اور اس نے وقتی تاثر کے تحت ترنگ میں آ کر رضی الله عنہ کا لقب مستقبل کے قاتل صحابہ کو عطا کر دیا




from Siasat.pk Forums http://ift.tt/2g9p49O
http://ift.tt/eA8V8J

No comments